ترانہ
College Anthem اے درس گاہِ فنِ درس مادرِ علمی
تجھی سے زندگی تدریس کے ہنر کو ملی
ترے ہی دم سے ہیں سرسبز باغِ علم و عمل
یہ جھرنے آج کے دریاؤں میں ڈھلیں گے کل
جلا دیے ہیں رہِ زیست میں جو تو نے چراغ
وہ جگمگا کے اجالیں گے قلب اور دماغ
یوں تو نے نور سے تعلیم کے سنوارا ہے
بنا کے شمس و قمر ذروں کو ابھارا ہے
جہاں کہیں بھی درخشاں ہیں مہر و ماہ ترے
مٹا رہے ہیں اندھیرے سبھی جہالت کے
یہ عہد کرتے ہیں تجھ سے اے درس گاہِ عظیم
رکھیں گے اونچا عَلم علم کا بفضلِ کریم
دعا لبوں پہ سدا ' ربِّ زدنی علما ' رہے
کہ شہرِ علم کے در سے سبھی کو فیض ملے